پاکستان طبی کانفرنس نے TCAM ایکٹ 2025 کے تحت تحلیل کو مسترد کر دیا

طبیب حضرات کی نیشنل کونسل فار طِب کر صدر اور زمہ داران کو اعتماد میں لے کر اس مسئلے کا حل نکالا جائے


فیصل آباد(نمائندہ نیوز قاری خواجہ صاحب) تفصیلات کے مطابق پاکستان طبی کانفرنس نے مجوزہ ٹریڈیشنل کمپلیمنٹری اینڈ الٹر نیٹو میڈیسن TCAM ایکٹ 2025 پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ پاکستان میں طبِ یونانی کے صدیوں پرانے ورثہ کو تباہ کرنے کا موجب بنے گا۔اس سنگین مسئلے پر پروفیسر حکیم محمود انور (میڈیا کواڈینیٹر پاکستان کانفرنس ڈویزن فیصل آباد) نےکہا کہ اگرچہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے اس ایکٹ کو انضمام Merger کا نام دیا ہے لیکن سیکشن 58(3) میں واضع طور پر لکھا ہے کہ NCT کو تحلیل کر دیا جائے گا یہ ایک ایسا قدم ہے جو پاکستان میں طب یونانی کی دہائیوں پرانی میراث اور مہارت کو ختم کر دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایکٹ یونانی اور ہومیو پیتھی کو ایک ہی وجود سمجھتا ہےاور اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ ان کا فلسفہ ایک دوسرے سے اتنا ہی مختلف ہے جتنا کہ ایلو پیتھی ان دونوں سے مختلف ہے۔عالمی ادارہ صحت WHO جڑی بوٹیوں اور روایاتی ادویات کو مرکزی دھارے کے صحت کے نظام میں ضم کرنے کاحکم دیتا ہے۔یہ ایکٹ چار سالہ ڈپلومہ FTJ پروگراموں کے فوری خاتمے کا مینڈیٹ دیتا ہے۔ایک فعال مبرجنگ پروگرام کے بغیر 200 سے زائد طبیہ اور ہومیو کالجز کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں۔دیہی صحت کی دیکھ بھال جو 2.30.000 سے زائد طبیب اور ہومیو پریکٹیشنزز پر انحصار کرتی ہے کو تباہ کن قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے نظام کے نفاز سے پہلے پرانے نظام کو مرحلہ وار بہتر کرنے کا طریقہ اپنایا جائے۔سیکریٹریجنرل پاکستان طبی کانفرنس نے کہا ہے کہ یونانی نظام ہمارے روایتی علم کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسے باقاعدہ شناخت کے ساتھ بحال رکھا جائے۔تقابلی تکنیکی جدول یونانی کو الگ ضابطے کی ضرورت کیوں ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *