شدید دھند اور خشک سردی سے کم عمر بچے بیماریوں کی لپیٹ میں، پرائمری سطح کے لیے چھٹیوں میں مزید توسیع کا مطالبہ

(ڈیرہ غازی خان چوھدری احمد سے )
ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید دھند اور خشک سردی نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں، جس کے سب سے زیادہ منفی اثرات کم عمر اسکول جانے والے بچوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر پرائمری سطح کے بچے—بجو پریپ، نرسری، کچی پکی، پہلی سے پانچویں اور مڈل کلاس تک—موسمی شدت کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق تین سے دس سال کی عمر کے بچوں کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ سردی اور دھند کی شدت کو برداشت نہیں کر پاتے اور جلد نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان معصوم بچوں کے لیے سرد موسم میں اسکول آنا جانا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
دیہی علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں شدید دھند، کچی سڑکیں، ناہموار راستے، پگڈنڈیاں اور کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بچے اسکول پہنچتے ہیں۔ اکثر بچے پیدل سفر کرتے ہیں یا کسی سواری کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نہ صرف اسکول پہنچنا مشکل ہے بلکہ حاضری بھی انتہائی کم ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پنجاب نے 10 جنوری تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود شدید سردی اور دھند کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں نے حکومتِ پنجاب، وزیر اعلیٰ تعلیم اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے پرائمری سطح کے لیے سردیوں کی چھٹیوں میں مزید 10 سے 15 دن کی توسیع کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلیم کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہتا ہے، مگر بیماری نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ والدین کی معاشی حالت کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ مہنگا علاج غریب طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ شدید سردی میں نہ تو بچوں کی صحیح تعلیم ممکن ہے اور نہ ہی ذہنی یکسوئی۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت پنجاب مزید چند دن کی چھٹیاں دے دے تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچے بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں، جو یقیناً والدین اور بچوں دونوں کے لیے ایک بڑا ریلیف ہوگا۔
رپورٹ:چوہدری احمد
ڈیرہ غازی خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *