ٹھٹہ (ڈسٹرکٹ رپورٹ:ایم اعجازچانڈیو مھرانوی)سے
فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج / ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ ٹھٹہ کے معزز جج اسلام الحق آرائیں نے ٹھٹہ اور مکلی شہروں میں ہیوی ٹریفک کے باعث بار بار ہونے والے حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور پولیس کی غفلت کے خلاف دائر درخواست پر ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ٹھٹہ اور مکلی شہروں میں ہیوی ٹرالر، ڈمپر، ٹرک اور آئل ٹینکروں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق جنگشاہی، ستین اور دیگر سڑکوں سے آنے والی ہیوی گاڑیاں ٹھٹہ اور مکلی شہروں میں صرف رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک داخل ہو سکیں گی، جبکہ دن کے اوقات میں کسی بھی صورت ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ کو سونپ دی ہے۔
عدالت نے واضح حکم دیا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بھی ہیوی گاڑی دن کے وقت شہر میں داخل ہوئی تو ایس ایس پی ٹھٹہ متعلقہ پولیس اہلکاروں، ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ اور گاڑی کے ڈرائیور کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کروائیں گے۔
یہ کیس نوجوان سماجی رہنما بلال دوسانی کی درخواست پر دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس اور ٹریفک اہلکاروں کی غفلت، رشوت اور غیر قانونی اجازت کے باعث ہیوی ٹریفک شہروں سے گزر رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 6 شہری جاں بحق اور 15 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ 18 دسمبر 2025 کو مکلی میں ڈی آئی جی ہوٹل کے قریب ایک ہیوی ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں دو نوجوان جاں بحق ہو گئے تھے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ٹریفک سیکشن ٹھٹہ کے انچارج کی جانب سے قانون سے لاعلمی ظاہر کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران فریادی بلال دوسانی سمیت ٹھٹہ پولیس کے افسران پیش ہوئے۔ کیس کی پیروی نوجوان وکیل مسٹر قمر عباس چانڈیو ایڈووکیٹ نے کی، جنہوں نے عدالت میں بھرپور اور مدلل دلائل پیش کیے۔
عدالت کے اس فیصلے کو ٹھٹہ کے وکلا، سماجی حلقوں اور شہریوں نے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ، شہروں کے امن اور ٹریفک نظام کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور پولیس کی غفلت کے خلاف دائر درخواست پر ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کر دیا ہے