ڈی جی کینال اور شوریہ سمیت نہروں کی بھل صفائی کے نام پر دہائیوں سے لوٹ مار، درختوں کا بے دریغ قتلِ عام
کاغذوں میں صفائی مکمل، زمین پر مٹی کے ڈھیر اور کٹے ہوئے درخت؛ ڈی جی خان کے کسان اور ماحول دونوں تباہ
( ڈیرہ غازی خان (چوہدری احمد)
ضلع ڈیرہ غازی خان میں آبپاشی کا نظام صرف بدانتظامی نہیں بلکہ منظم کرپشن کی واضح مثال بن چکا ہے۔ ڈی جی کینال، یارو مائنر، چھابری، کوٹ ہیبت، پیر عادل، کوٹ مبارک اور شوریہ کینال گزشتہ کئی دہائیوں سے مؤثر بھل صفائی سے محروم ہیں، مگر ہر سال صفائی کے نام پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کاغذوں میں ہضم کر لیے جاتے ہیں۔
کاغذی صفائی، زمینی حقائق صفر
محکمہ انہار کے ریکارڈ میں نہریں چمک رہی ہیں، مگر عملی طور پر نہروں میں:
مٹی کے انبار
جھاڑیاں اور خود رو جنگل
پانی کی روانی میں شدید رکاوٹ
واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
درختوں کی بے رحمانہ کٹائی: ایک نیا اسکینڈل
ہیڈ گجانی سے نکلنے والی نہروں، پل قنمبر سے ڈی جی کینال اور دیگر شاخوں کے کناروں پر موجود سایہ دار درختوں کو منظم طریقے سے کاٹا جا چکا ہے اور یہ عمل تاحال جاری ہے۔
اہم سوالات جنم لے رہے ہیں:
نہری کناروں کے درخت کس اجازت سے کاٹے گئے؟
لکڑی کہاں گئی؟
محکمہ جنگلات کہاں سویا رہا؟
کن افسران کی آشیر باد سے یہ سب ممکن ہوا؟
مقامی افراد کے مطابق یہ کٹائی بھل صفائی کی آڑ میں لکڑی مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہے، جس سے:
ماحول شدید متاثر
سایہ ختم
نہری بند ٹوٹ پھوٹ کا شکار
درجہ حرارت میں اضافہ
کسانوں کا معاشی قتل
صفائی نہ ہونے کے باعث پانی ٹیل تک نہیں پہنچ رہا، خاص طور پر:
گندم کی فصل شدید متاثر
کسان مہنگے داموں ٹیوب ویل کا پانی خریدنے پر مجبور
پیداواری لاگت میں خطرناک اضافہ
بدعنوانی کے سنگین الزامات
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ:
“یہ نااہلی نہیں، بلکہ غریب کسانوں کے رزق پر منظم ڈاکہ ہے۔ افسران اور ٹھیکیدار مل کر حکومت کو کروڑوں کا چونا لگا رہے ہیں۔”
مطالبات
اہالیانِ علاقہ، کسان تنظیموں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
ڈی جی کینال اور شوریہ کینال کے گزشتہ 10 سالہ فنڈز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے
درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوں
فوری طور پر نہروں کی شفاف بھل صفائی کرائی جائے
ٹیل کے علاقوں تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے
اعلیٰ حکام سے اپیل
کسانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، ورنہ کسان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔
ڈی جی کینال اور شوریہ سمیت نہروں کی بھل صفائی کے نام پر دہائیوں سے لوٹ مار