عمران خان فیصلے سے متاثر نہیں، ہائی کورٹ میں اپیل کا حکم

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ II کرپشن کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ آج (20 دسمبر 2025) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے سنایا، جہاں دونوں ملزمان موجود تھے۔

عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 (مجرم اعتماد کی خلاف ورزی) کے تحت 10 سال کی سخت قید اور اینٹی کرپشن قوانین کے تحت مزید 7 سال قید کی سزا سنائی، جو مجموعی طور پر 17 سال بنتی ہے۔ دونوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

کیس کا تعلق 2021 میں سعودی ولی عہد کی جانب سے دیے گئے قیمتی بلغاری جیولری سیٹ سے ہے، جسے کم قیمت پر خریدنے اور توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا الزام ہے۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی فیصلے پر بالکل حیران نہیں ہوئے اور مسکراتے رہے۔ انہوں نے فوری طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت دی۔ وکیل کے مطابق، عمران خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے کبھی میرٹ پر فیصلہ نہیں آیا، ہمیشہ ہائی کورٹ سے ریلیف ملا ہے۔

پی ٹی آئی نے فیصلے کو “انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے پنجاب بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ترجمان زلفی بخاری نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی انتقام کا تسلسل ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل توشہ خانہ کیس میں سنائی گئی سزائیں اپیل پر معطل ہو چکی ہیں۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *