قاسم اور سلیمان کے سنگین الزامات، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

لندن: پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان اور سلیمان خان نے اپنے والد کی جیل میں حالت زار پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دونوں بھائیوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں “ڈیتھ سیل” میں رکھا گیا ہے، جہاں حالات انتہائی غیر انسانی اور تشدد کا شکار ہیں۔

اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں قاسم خان اور سلیمان خان نے بتایا کہ ان کے والد کو دو سال سے زائد عرصے سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ قاسم نے کہا کہ جیل کا سیل انتہائی چھوٹا ہے (تقریباً 6 فٹ بائی 8 انچ)، جہاں کھڑا ہونا بھی مشکل ہے، پانی گندا ہے، ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے قریب رکھا گیا ہے، اور دن میں 23 گھنٹے تنہائی میں گزارتے ہیں۔ سلیمان نے اسے “سزائے موت والے قیدیوں کی کوٹھری” قرار دیا، جہاں روشنی کم ہے اور اکثر بجلی کاٹ دی جاتی ہے۔

دونوں بھائیوں نے کہا کہ یہ حالات عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور نفسیاتی تشدد کے مترادف ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ والد کی صحت اور زندگی خطرے میں ہے، اور شاید وہ انہیں دوبارہ نہ دیکھ سکیں۔ آخری فون کال ستمبر میں صرف 6 منٹ کی تھی، جبکہ بالمشافہ ملاقات نومبر 2022 کے بعد نہیں ہوئی۔

قاسم اور سلیمان نے اعلان کیا کہ انہوں نے ویزے کی درخواست دے دی ہے اور جنوری 2026 میں پاکستان آ کر والد سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے دباؤ ڈالنے کی اپیل کی تاکہ عمران خان کی فوری رہائی ممکن ہو۔

دوسری جانب، وزیراعظم کے ترجمان برائے خارجہ میڈیا مشرف زیدی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو علیحدہ رہائش، جم، لان، کتابیں اور ذاتی باورچی کی سہولیات میسر ہیں، اور وہ دن میں کم از کم 6 گھنٹے کھلے ماحول میں گزارتے ہیں۔ ان کے مطابق جیل میں 870 سے زائد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جو قید تنہائی کے دعووں کی نفی کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ بارہا جیل انتظامیہ پر ملاقاتوں اور سہولیات میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ حال ہی میں عمران خان کی بہنوں کی جیل کے باہر احتجاج پر واٹر کینن استعمال کیا گیا۔

قاسم اور سلیمان نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی انتقام کا تسلسل ہے اور والد کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *