راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اپنا تازہ پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میں عوام کی آزادی لے کر رہوں گا ورنہ شہادت کے لیے تیار ہوں”۔ یہ بیان توشہ خانہ II کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جو سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرام راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران یہ دو ٹوک پیغام دیا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور عوام کی حقیقی آزادی اور جمہوریت کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری شروع کر دیں کیونکہ اب کوئی اور آپشن باقی نہیں بچا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے تمام سیاسی اسیران، بالخصوص خواتین کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب توشہ خانہ II کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جسے پی ٹی آئی نے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، پارٹی نے اس بیان کو عوامی جدوجہد کا اعلان قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پی ٹی آئی ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ آواز پاکستان کی عوام کی آواز ہے اور یہ جدوجہد عوامی حقوق اور انصاف کی بحالی تک جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ماہر نے عمران خان کی جیل کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کی قید تنہائی کو نفسیاتی تشدد قرار دیا تھا۔ عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے بھی عالمی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے جیل کے غیر انسانی حالات کی نشاندہی کی تھی۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ بیان عوام کو بیدار کرنے کا پیغام ہے اور جلد ہی سڑکوں پر عوامی طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا۔ عمران خان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ جدوجہد پاکستان کی تاریخ بدل دے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اعلان سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے اور عوام کس حد تک اس آواز پر لبیک کہتے ہیں۔