پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ سے پیش گوئیاں اور دعوے ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلبلاول بھٹو زرداری بھٹو زرداری کو ملک کا اگلا وزیراعظم قرار دیا ہے۔ یہ بیان نہ صرف پارٹی کی امیدوں کا اظہار ہے بلکہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں پی پی پی کی حکمت عملی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس پیش گوئی کے پس منظر، اس کی سیاسی اہمیت، بلبلاول بھٹو زرداریبھٹو کی قیادت کی صلاحیتوں اور پاکستان کی موجودہ سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں گے۔
فیصل کریم کنڈی، جو خود پی پی پی کے سینئر رہنما ہیں اور مئی 2024 سے خیبر پختونخوا کے گورنر کے عہدے پر فائز ہیں، نے متعدد مواقع پر بلawal بھٹو کو مستقبل کا وزیراعظم قرار دیا ہے۔ فروری 2025 میں میانوالی میں پارٹی ورکرز کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “وقت قریب ہے جب بلاول بھٹو زرداری ملک کے وزیراعظم بن کر قیادت کریں گے”۔ اسی طرح نومبر 2025 میں پی پی پی کی یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بلawal کا پیغام گھر گھر پہنچائیں اور انہیں اگلا وزیراعظم بنانے کے لیے کام کریں۔ یہ بیانات محض پارٹی وفاداری کا اظہار نہیں بلکہ پی پی پی کی طرف سے ایک منظم سیاسی مہم کا حصہ ہیں جو بلawal کو قومی سطح پر ایک مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
بلawal بھٹو زرداری پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دو اہم ستون ہیں۔ بلبلاول بھٹو زرداری نے کم عمری میں ہی پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 2022 سے 2023 تک وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دور میں انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو موثر انداز میں پیش کیا، خاص طور پر کشمیر اور افغانستان کے مسائل پر۔ پی پی پی کی روایت عوام دوست پالیسیوں کی ہے، جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی۔ بلبلاول بھٹو زرداری ان روایات کو آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں اور وہ نوجوان نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ان کی قیادت میں پی پی پی پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے صوبوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں پارٹی کی روایتی حمایت کم ہے۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ پیش گوئی خاص اہمیت کی حامل ہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان میں ایک مخلوط حکومت قائم ہوئی جس میں پی ایم ایل این مرکزی کردار ادا کر رہی ہے جبکہ پی پی پی اتحادی ہے۔ تاہم پی پی پی کے رہنما بارہا شکایت کر چکے ہیں کہ اتحادی وعدوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ بلawal بھٹو نے خود بھی PML-N کی یکطرفہ فیصلوں پر تنقید کی ہے۔ ایسے میں گورنر کنڈی کی پیش گوئی پارٹی کی طرف سے ایک سیاسی پیغام ہے کہ پی پی پی اگلے انتخابات میں مکمل طور پر وزیراعظم کا دعویٰ کرے گی۔ اگلے عام انتخابات ابھی دور ہیں، لیکن سیاسی ابہام اور معاشی چیلنجز کی وجہ سے حکومت کی تبدیلی کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اگر پی پی پی پنجاب میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لے تو بلبلاول بھٹو زرداری واقعی ایک مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔
تاہم یہ پیش گوئی کتنی حقیقت پسندانہ ہے؟ پاکستان کی سیاست میں خاندانی سیاست، فوجی اثر و رسوخ اور علاقائی تقسیم اہم عوامل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اب بھی عوامی حمایت رکھتی ہے جبکہ PML-N کی پنجاب میں مضبوط گرفت ہے۔ پی پی پی کی بنیادی طاقت سندھ میں ہے، لیکن بلawal کی نوجوان تصویر اور جدید سوچ انہیں قومی سطح پر اپیل دیتی ہے۔ اگر پارٹی اتحادیوں سے علیحدہ ہو کر الیکشن لڑے تو یہ پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔
آخر میں، گورنر خیبر پختونخوا کی یہ پیش گوئی پی پی پی کی امیدوں اور عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ بلawal بھٹو زرداری ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار سیاستدان ہیں جو پاکستان کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست غیر یقینی سے بھری پڑی ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ بلبلاول بھٹو زرداری بھٹو مستقبل کی سیاست کا اہم کردار ادا کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ پیش گوئی محض پارٹی پروپیگنڈا ہے یا واقعی سیاسی حقیقت بن جائے گی۔ پاکستان کے عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا۔