ڈیرہ غازی خان (چوہدری احمد سے) ایک معمولی سی غلطی، اور ایک سزا جو دل کو چیر کر رکھ دے۔
ایک غریب مزدور باپ، جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو اسکول سے واپس لا رہا تھا، کاغذات یا ہیلمٹ کی کمی کی وجہ سے ٹریفک قانون کی ایک لکیر پار کر گیا، کو حوالات میں ڈال دیا گیا۔
اس لمحے کی تصویر آج ہر دل کو دہلا رہی ہے: چھوٹی بیٹی، اسکول کی سفید وردی میں ملبوس، حوالات کی سرد سلاخوں سے لپٹی، آنکھوں میں خوف اور دل میں بے بسی لیے اپنے والد کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ہر پل اس کی نگاہ میں سوال اور حیرت چھپی ہے، جیسے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ آخر وہ جرم کیا ہے جو اس کے والد نے کیا؟
والد کمزور اور تھکا ہوا، لیکن اس لمحے اس کی بے بس نظروں میں دنیا کی تمام ناانصافیوں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ اگر یہ باپ طاقتور ہوتا تو شاید قانون کا رخ بدل جاتا، لیکن اس کی کمزوری اور عام شہری ہونے کی سزا، اس اور اس کی بیٹی کو جھیلنی پڑی۔
یہ منظر انسانی ہمدردی کو جھنجھوڑ دیتا ہے: بیٹی، چھوٹی ہاتھوں سے سلاخیں تھامے، والد کی تکلیف اور بے بسی کو محسوس کر رہی ہے، اور دنیا کی سردی کو اپنی معصوم آنکھوں سے جھیل رہی ہے۔
ریاست سے سوال اٹھتا ہے: کیا حکومت کا کام عوام کو سہولت دینا نہیں، بلکہ کمزور، بوڑھے اور روزگار کے لیے محنت کرنے والے لوگوں کو مزید اذیت میں ڈالنا ہے؟ ایسے والدین جن کے پاس طاقت نہیں، ایسے بچے جن کے ساتھ کوئی نہیں، اور ایک نظام جو قانون کے نام پر انسانی ہمدردی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
یہ تصویر صرف ایک غریب مزدور کی کہانی نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے: جب قانون کی طاقت انسانیت سے زیادہ اثرانداز ہو جائے تو معاشرہ کتنی جلدی بے رحمی کے شکنجے میں آ سکتا ہے۔
بیٹی، سلاخوں کو تھامے، اپنے والد کی بے بسی کو دیکھ کر، شاید پہلی بار زندگی کی سخت حقیقت کو سمجھ رہی تھی — اور اس لمحے کی خاموش چیخ ہر انسان کے دل کو کانپنے پر مجبور کر دے۔ فوٹو ہمراہ ہے