واپڈا اہلکاروں پر میٹر سے مبینہ چھیڑ چھاڑ،صارف کو ہزاروں کے غلط بل تھما دیے گئے

ایس ڈی او کا تحریری اعتراف موجود،اس کے باوجود اضافی بلنگ جاری،نیپرا سے کارروائی کی اپیل

ایکسین،سی ایس او اور ایس ڈی او متفق مگر بل درست نہ ہو سکا،صارف ذہنی اذیت کا شکار

راولپنڈی (عبدالرحمان سے) راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ میں بجلی صارف کے ساتھ مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی بلنگ کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں متعلقہ افسر کے تحریری اعتراف کے باوجود صارف کو مسلسل اضافی اور ڈیٹیکشن بل بھیجے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نئی آبادی تربیلہ کالونی، دھمیال کلیال روڈ کے رہائشی محمد شہزاد ولد عبدالغنی نے چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو باقاعدہ تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دسمبر 2024 میں اڈیالہ روڈ سب ڈویژن کے ایس ڈی او راجہ شاہد نے اپنے ماتحت عملے کو ان کے گھر بھجوایا، جہاں بجلی کے میٹر کے ساتھ غیر قانونی طور پر چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ درخواست کے مطابق اس واقعے کے بعد صارف کو کرنٹ بل کے علاوہ 42 ہزار 205 روپے کے اضافی ڈیٹیکشن بل بھجوا دیے گئے، جبکہ بعد ازاں 2 دسمبر 2025 کو مزید 40 ہزار 328 روپے کا بل بھی موصول ہوا۔ متاثرہ صارف کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ایس ڈی او راجہ شاہد سے بالمشافہ ملاقات کی گئی، جس کے بعد ایس ڈی او نے دسمبر 2024 میں تحریری لیٹر جاری کیا، جس میں واضح طور پر درج ہے کہ کرنٹ بل (یونٹس کے مطابق) کے علاوہ تمام ڈیٹیکشن اور اضافی بل ختم کیے جائیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ایس ڈی او کے اس تحریری اعتراف اور ہدایت کے باوجود نومبر 2025 تک مسلسل اضافی بلنگ جاری رہی۔ صارف کے مطابق اس مسئلے پر ایکسین طارق آباد کے دفتر میں سی ایس او سے بھی رجوع کیا گیا، جہاں ایس ڈی او، سی ایس او اور ایکسین اس بات پر متفق ہوئے کہ ایس ڈی او کا جاری کردہ لیٹر درست ہے اور اسی کے مطابق بلوں کی درستگی ہونی چاہیے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس اتفاقِ رائے کے تحریری شواہد بھی موجود ہیں، مگر اس کے باوجود نہ تو غلط بلنگ ختم کی جا رہی ہے اور نہ ہی مبینہ طور پر ذمہ دار افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جس سے صارف شدید ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا شکار ہے۔ متاثرہ صارف نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ کرنٹ بل کے علاوہ تمام غلط ڈیٹیکشن اور اضافی بل فوری طور پر ختم کیے جائیں، بجلی کے میٹر سے مبینہ چھیڑ چھاڑ میں ملوث افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اسے انصاف فراہم کیا جائے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واضح شواہد اور تحریری اعتراف کے باوجود صارف کو ریلیف نہیں ملتا تو یہ صورتحال بجلی صارفین کے تحفظ اور ادارہ جاتی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *