صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، لاہور
لاہور ( محمد منصور ممتاز سے )
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے مختلف میڈیکل کالجز کے پرنسپلز اور سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فارغ کیے جانے پر شدید ترین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کی ناقص اور ناکام کارکردگی کا ملبہ اسپتالوں کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں پر ڈالنا کسی صورت قابلِ فہم نہیں ہے۔
پروفیسر شاہد ملک نے اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ غیر متعلقہ، نان ڈاکٹر افراد اور مختلف جنرل یونیورسٹیوں کے گریجوایٹس کو ٹیموں کی صورت میں سرکاری اسپتالوں کی مانیٹرنگ کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جنہیں نہ تو ادویات کی پروکیورمنٹ کا علم ہے، نہ ادویات کی دستیابی، لوکل پرچیز اور نہ ہی اسپتال کے انتظامی نظام کی بنیادی سمجھ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ناتجربہ کار ٹیموں کی غلط، سطحی اور غیر پیشہ ورانہ رپورٹس کی بنیاد پر پرنسپلز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فارغ کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بعض اسپتالوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی جیسے معاملات پر بھی اسپتال انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کی واضح مثال گوجرانوالہ میڈیکل کالج کے پرنسپل کو محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے فارغ کیا جانا ہے۔
پروفیسر شاہد ملک نے واضح کیا کہ آوارہ کتوں کی موجودگی کسی ایک اسپتال یا اس کے پرنسپل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے ضلع کا انتظامی اور بلدیاتی مسئلہ ہے، جس کی ذمہ داری اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ ڈاکٹروں یا اسپتال انتظامیہ پر۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ایسی ٹیموں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جو غلط رپورٹنگ کے ذریعے ڈاکٹروں پر انتظامی ناکامیوں کا ملبہ ڈال رہی ہیں، اور سرکاری اسپتالوں میں تجربہ کار، متعلقہ اور پیشہ ور افراد کے ذریعے شفاف، منصفانہ اور حقائق پر مبنی مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے۔