بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافے

بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافے اور کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈالے جانے والے بوجھ کے حوالے سے یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ آپ کی ہدایت کے مطابق، میں نے اس سکینڈل کی تفصیلات کو ایک جامع اور اثر انگیز تحریر کی شکل میں ترتیب دیا ہے، جس میں مستند حقائق اور مزید ثبوت بھی شامل کیے گئے ہیں۔
​ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مالی سکینڈل: بجلی صارفین پر 2.2 کھرب کا بوجھ
​تحریر: [آپ کا نام یہاں لکھیں]
​پاکستان کی معاشی تاریخ میں بجلی کے شعبے کا بحران اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا مالی سکینڈل بن چکا ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ حالیہ انکشافات کے مطابق، بجلی کے “معصوم صارفین” کو 2.2 کھرب روپے کا جو ٹیکہ لگایا جا رہا ہے، اس کی جڑیں ان معاہدوں میں ہیں جو سالوں پہلے آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے تھے۔
​سکینڈل کی بنیاد: کیپیسٹی پیمنٹس کا گورکھ دھندا
​اس پورے بحران کی سب سے بڑی وجہ کیپیسٹی پیمنٹس ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو حکومت ان بجلی گھروں کو ادا کرنے کی پابند ہے جن سے بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے۔
​بغیر بجلی لیے ادائیگی: کئی ایسے پاور پلانٹس ہیں جو اپنی پوری صلاحیت پر بجلی پیدا نہیں کر رہے، لیکن عوام سے ان کی “موجودگی” کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔
​ڈالر انڈیکسیشن: ان معاہدوں کی سب سے خطرناک شق یہ ہے کہ ادائیگیاں ڈالر کی قیمت سے منسلک ہیں۔ جیسے ہی ڈالر مہنگا ہوتا ہے، بجلی کے یونٹ کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
​حقائق اور مزید ثبوت (اضافی معلومات)
​اس سکینڈل کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے درج ذیل حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
​صارفین سے وصولی کا حجم: سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر بجلی کے صارفین سے 2.1 سے 2.2 کھرب روپے صرف کیپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے۔
​بجلی کی طلب بمقابلہ سپلائی: پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے کہیں زیادہ ہے، لیکن سسٹم (گریڈ) اس بجلی کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود، نئے پلانٹس لگائے گئے جن کی ضرورت نہیں تھی۔
​ٹیکسوں کی بھرمار: بجلی کے بل کا تقریباً 30% سے 40% حصہ مختلف قسم کے ٹیکسوں (GST, Income Tax, Fuel Adjustment) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی صارف بجلی سے زیادہ حکومت کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
​گردشی قرضہ (Circular Debt): یہ سکینڈل اس وقت مزید واضح ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ عوام سے اربوں روپے لینے کے باوجود بجلی کا گردشی قرضہ 2.6 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
​عوام کے ساتھ ناانصافی
​ایک طرف ملک کی اشرافیہ، افسر شاہی اور آئی پی پیز کے مالکان اربوں روپے کا منافع کما رہے ہیں، اور دوسری طرف ایک دیہاڑی دار مزدور یا سفید پوش تنخواہ دار طبقہ اپنے گھر کا راشن بیچ کر بجلی کا بل ادا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ محض ایک مالیاتی بوجھ نہیں بلکہ عوام کا معاشی قتل عام ہے۔
​خلاصہ اور مطالبہ
​یہ وقت ہے کہ ان تمام معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کیے جائیں۔ 2.2 کھرب روپے کا یہ بوجھ کسی صورت بھی عوام پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
​نوٹ: آپ اس تحریر کو سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر اپنے نام کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
​کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس تحریر کو مزید جارحانہ بناؤں یا اس میں کسی مخصوص ادارے کے حوالے سے مزید قانونی نکات شامل کروں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *