(اسلام آباد) 12 جنوری 2026: قومی پیغامِ امن کمیٹی کا مشاورتی اجلاس وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی سربراہی میں آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کورڈینیٹر پیغامِ امن کمیٹی مولانا طاہر اشرفی، ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور وفاق کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ پیغامِ پاکستان کو عملی شکل دینے کے لیے تمام مکاتب فکر متحد ہیں اور اس کے فروغ کو قومی ترجیح دی جائے۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مدارس، مساجد اور جامعات میں پیغامِ پاکستان کے اصولوں کو شامل کیا جائے اور علماء و مشائخ اسے اپنے خطبات و دروس میں عام کریں گے۔ انتہاپسند نظریات کے خلاف فکری اور شرعی ردعمل کو موثر انداز میں نافذ کرنے کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔
نوجوانوں تک پیغامِ پاکستان پہنچانے کے لیے خصوصی آؤٹ ریچ مہمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ قومی پیغامِ امن کمیٹی پیغامِ پاکستان کی عملداری کی مستقل نگرانی کرے گی۔ اجلاس میں اقلیتی برادریوں کو اس مشن میں باقاعدہ شراکت دار بنانے اور مذہبی آزادی و شہری مساوات کے فروغ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے پر بھی اتفاق ہوا۔
شرکاء نے بین المذاہب مکالمے کو قومی سطح پر وسعت دینے اور انتہاپسندانہ بیانیے کے خلاف متحدہ مذہبی محاذ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پیغامِ پاکستان کو ہر طبقے تک پہنچانے کی ذمہ داری قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ہوگی، تاکہ پاکستان کو امن، برداشت اور ہم آہنگی کی ریاست کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر پشاور کے دورے کا اعلان بھی کیا گیا، جس کا مقصد شدت پسندی کے خلاف نظریاتی محاذ کو مضبوط کرنا اور پیغامِ پاکستان کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
اسلام آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کا مشاورتی اجلاس، مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام کو مضبوط بنانے پر زور