


کنونشن کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی کی ضلعی صدر نذیر حسین جعفری کے ہمراہ دودا پور میں اہم پریس کانفرنس
جیکب آباد میں خواتین سے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات کی شدید مذمت
عدالتی تحقیقات، مجرموں کو عبرتناک سزا اور پولیس نظام کی اصلاح کا مطالبہ
جیکب آباد / دودا پور(اے جی بلوچ سے)
تاریخ: 18 جنوری 2026
مجلس وحدت مسلمین تعلقہ گڑھی خیر کا ایک اہم تنظیمی کنونشن منعقد ہوا، جس میں تعلقہ کے یونٹس اور تعلقہ کابینہ کے اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کنونشن میں تنظیمی مشاورت کے بعد کثرتِ رائے سے سید علی شاہ کو مجلس وحدت مسلمین تحصیل گڑھی خیرو کا تحصیل صدر منتخب کیا گیا۔ صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے نو منتخب تحصیل صدر کا باضابطہ اعلان کیا اور ان سے حلف لیا۔
تعلقہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک منظم، نظریاتی اور عوامی جدوجہد کرنے والی جماعت ہے جو مظلوموں کی آواز بن کر میدان میں موجود رہے گی۔ انہوں نے تنظیمی استحکام، یونٹس کی فعالیت اور عوامی رابطہ مہم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے اعلان کیا کہ 30 جنوری 2026 کو شکارپور کے شہداء کی گیارہویں برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان عظمتِ شہداء کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تمام عاشقانِ اہل بیتؑ، علمائے کرام، نوجوانوں اور عوام الناس سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی۔
ضلعی صدر نذیر حسین جعفری نے کہا کہ شہداء کی یاد منانا دراصل حق و صداقت اور، مزاحمت کے راستے کو زندہ رکھنا ہے، اور یہ کانفرنس شہداء کے مشن سے تجدیدِ عہد کا عملی مظہر ہوگی۔
کنونشن کے اختتام پر
مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے دودا پور میں ضلعی صدر نذیر حسین جعفری، تحصیل صدر سید علی شاہ اور دیگر ضلعی و تحصیلی ذمہ داران کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیکب آباد میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے نوجوان خاتون آسیہ کھوسو کے ساتھ آر ڈی 52 تھانے میں ایک ہفتے تک مبینہ گینگ ریپ جیسے سنگین، شرمناک اور انسانیت سوز واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پولیس عوام کی جان، مال اور عزت کی محافظ ہوتی ہے، لیکن اگر وہی اہلکار خواتین کی عزت پامال کریں تو یہ نہ صرف قانون بلکہ پورے نظامِ انصاف پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور آزاد عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ملوث اہلکاروں کو بلا تاخیر گرفتار کر کے سخت ترین اور عبرتناک سزا دی جائے اور پولیس نظام سے کالی بھیڑوں کو فوری طور پر نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کھوسہ قبیلے کی خواتین کے ساتھ جن عناصر نے جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے، انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔ خواتین کی عزت و حرمت پر حملہ پورے معاشرے پر حملہ ہے، اور اگر ریاست ایسے مجرموں کو سزا دینے میں ناکام رہی تو یہ ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے متاثرہ خواتین کو مکمل تحفظ، انصاف اور ریاستی سرپرستی فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے واضح کیا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان مظلوم خواتین کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو عوامی، سماجی اور سیاسی سطح پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔