ادویات مافیا کی من مانیاں۔

​ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد )
​”مہنگائی کے اس دور میں اب جینا ہی نہیں، بیمار ہونا بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان سمیت ملک بھر میں ادویات ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ کہیں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی غائب ہے تو کہیں حکومت خاموش تماشائی۔ کیا یہ کمپنیاں آئین اور قانون سے بالاتر ہیں؟ اسی حوالے سے دیکھتے ہیں چوہدری احمد کی یہ رپورٹ۔”

​Vo
“ڈیرہ غازی خان کی گلیوں سے لے کر بڑے شہروں کے ہسپتالوں تک، ہر جگہ ایک ہی دہائی سنائی دے رہی ہے۔ ادویات ساز مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔ بخار کی عام گولی ہو یا دل اور شوگر جیسی زندگی بچانے والی ادویات، قیمتیں اب غریب کی پہنچ سے میلوں دور ہیں۔

عوام

“عوام کا سوال ہے کہ کیا ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟ ایک مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد چند سو روپے کماتا ہے، وہ پیٹ بھرے یا اپنے بوڑھے والدین کی ادویات خریدے؟ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارتِ صحت کی خاموشی نے ان کمپنیوں کو جیسے لوٹ مار کا لائسنس دے رکھا ہے۔”

​من مانی قیمتیں: آئے روز قیمتوں میں بلاجواز اضافہ۔
​اداروں کی خاموشی: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی پراسرار خاموشی۔
​مریضوں کی بے بسی: غریب کے لیے علاج اب ایک خواب۔۔
​”شہری حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کی ناجائز منافع خوری پر لگام ڈالی جائے اور قیمتوں کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اگر ادارے اب بھی نہ جاگے، تو غریب مریض ایڑیوں رگڑ رگڑ کر دم توڑنے پر مجبور ہوں گے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *