سوشل میڈیا صارفین کی سابق پاکستانی کرکٹرز پر کڑی تنقید
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 13 فروری 2026ء ) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و لیجنڈری آل رائونڈر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کو شدید نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارتی صحافیوں کی جانب سے بھی ان کی حمایت میں ٹویٹس سامنے آئے ہیں لیکن حیران کن طور پر وہ تمام سابق کرکٹرز جنہیں عمران خان قومی ٹیم میں لائے اور سٹار بنایا ،اب تک ’چپ کا روزہ‘ رکھ کر بیٹھے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعطم عمران خان نے بتایا ہے کہ خون کے لوتھڑے کی وجہ سے شدید نقصان ہوا اور دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025ء میں دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی، اس کے بعد دھندلاہٹ شروع ہوئی، جس کا بارہا سپرینٹینڈینٹ جیل کو بتایا مگر انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا، نتیجے میں اچانک دائیں اۤنکھ کی نظر مکمل چلی گئی جس کے بعد پمز کے ڈاکٹر عارف کو بلایا گیا، انہوں نے معائنہ کیا اور بتایا خون کے لوتھڑے کی وجہ سے شدید نقصان ہوا ہے، اس کے بعد انجیکشن سیمت جو علاج ہوا اس سے آنکھ کی محض 15 فیصد بینائی لوٹ پائی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفد نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ میری موجودگی کے تمام عرصے میں عمران خان کی اۤنکھوں میں تکلیف رہی، عمران خان سے دو گھنٹے کی ملاقات کے دوران مستقل ان کی آنکھ سے پانی بہہ رہا ہے تھا جس کو وہ بار بار ٹشو پیپر سے صاف کر رہے تھے، عمران خان نے اپنی دائیں آنکھ میں بینائی متاثر ہونے کا ذمہ دار آنکھوں میں انتظامیہ کے ڈاکٹر کی جانب سے مسلسل 3 مہینوں تک قطروں کے ڈالے جانے کو قرار دیا۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میری عمر میں مسلسل بلڈ ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں لیکن میرے ٹیسٹ نہیں کیے گئے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو پہلے اجازت ملتی تھی معائینہ کے لیے لیکن اب بار بار مطالبہ کے باوجود اجازت نہیں دی جا رہی، 73 سال کی عمر میں دانتوں کے معائنے کی بار بار ضرورت ہوتی ہے لیکن میری بار بار درخواست کے باوجود میرا دو سالوں میں ایک مرتبہ بھی دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ نہیں کروایا گیا۔
یہ رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھارتی سپورٹس صحافی وکرانت گپتا اور سینئر تجزیہ کار راج دیپ سردیسائی نے بھی عمران خان کی حمایت میں ٹویٹس کیے۔
وکرانٹ گپتا نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’’ سابق وزیر اعظم ، قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وہ شخص جس نے (کرکٹ کا) کل دیکھا — عمران خان — آج جیل میں اپنی بینائی کھو چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی نظر اب صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، اور یہ ایک نہایت افسوسناک داستان ہے‘‘۔
راج دیپ سردیسائی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ پاکستان کی ابدی شرمندگی: ان کے سب سے بڑے کرکٹر اور سابق وزیر اعظم کو جیل میں اس طرح کے سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ اقتدار سے باہر مردوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ عمران خان میدان میں شیر تھا، اس سے دور بھی شیر ہے۔ ان کی سیاست پسند ہے یا نہیں، وہ MR COURAGE ہے‘۔