اصلاحِ بیان سے اسٹیج اسکلز تک ،مولانا امیر حمزہ کی تربیتی ورکشاپ نے نوجوانوں میں نیا جوش بھر دیا
لاہور (محمد منصور ممتاز سے )
جامعہ فتحیہ ذیلدار روڈ اچھرہ لاہور میں بروز اتوار فنِ خطابت کی خصوصی ورکشاپ شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے نوجوان مقررین، طلبہ اور خطباء نے ریکارڈ تعداد میں شرکت کر کے پروگرام کو ایک تاریخی اجتماع بنا دیا۔ ورکشاپ کی صدارت ممتاز خطیب مولانا امیر حمزہ نے کی، جنہوں نے مقررین کی اصلاحِ بیان، فکری ترتیب اور تقریر کے جدید تقاضوں پر مدلل، مربوط اور متاثرکن گفتگو کی۔
شرکاء نے ورکشاپ کو اپنی زندگی کی اہم تربیتی نشست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں مؤثر ابلاغ، درست تلفظ، اور دلوں کو چھو لینے والی گفتگو کی مہارت تعلیمی، سماجی اور دینی میدانوں میں انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق فنِ خطابت محض بولنے کا نام نہیں بلکہ یہ سوچ کو ترتیب دینے، دلائل کو مضبوطی سے پیش کرنے اور سامع کے ذہن و دل پر اثر چھوڑنے کی عملی مہارت ہے۔
ورکشاپ میں فنِ خطابت کی اہمیت، تقریر کی تیاری کے مراحل، سامعین کی نفسیات، اسٹیج پر اعتماد، آواز کے اتار چڑھاؤ، جسمانی زبان کا استعمال اور اشاروں کے ذریعے مؤثر پیغام رسانی جیسے اہم موضوعات پر جامع لیکچرز دیے گئے۔ نوجوان مقررین کو عام غلطیوں اور ان کے حل سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔ نوجوانوں نے اس ورکشاپ کو “فضیلتِ علم”، “کامیاب گفتگو کے بنیادی اصول” اور “مستقبل کے مقررین کی عملی تربیت” کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔