بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتارنے کے واقعے کے خلاف آج ڈسٹرکٹ سیالکوٹ میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔
اس حوالے سے ڈی سی آفس سیالکوٹ میں مرکزی امن کمیٹی ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت حافظ محمد اصغر چیمہ صاحب اور مفتی کفایت اللہ شاکر صاحب نے کی۔
اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر، مختلف مذاہب اور مسالک کے رہنماؤں نے شرکت کی اور واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی وقار، مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور مذہبی آزادی کا احترام یقینی بنایا جائے۔
بعد ازاں اجلاس کے شرکاء نے چوک کچہری سیالکوٹ میں اجتماعی احتجاج بھی ریکارڈ کروایا، جہاں مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور واقعے کے خلاف نعرے بازی
“ہم اس شرمناک اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
مرکزی امن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ مذہبی ہم آہنگی اور انسانی عزت کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
رپورٹ:
ناصر چوہدری
سیالکوٹ