راولپنڈی میں جاری اڈیالہ روڈ کا ترقیاتی منصوبہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پشاور کا بی آر ٹی منصوبہ ہے اور دوسری جانب اڈیالہ روڈ، جو ان کے نزدیک ویژن 2030 کے بعد ہی مکمل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
خاص طور پر کھڈا مارکیٹ، جراہی اسٹاپ کے سامنے زیرِ تعمیر پُلی گزشتہ تقریباً 18 ماہ سے تاخیر کا شکار ہے، جس کے باعث روزانہ ہزاروں شہریوں کو شدید پریشانی، ٹریفک جام اور وقت کے ضیاع کا سامنا ہے۔ عوام کا شکوہ ہے کہ جس رفتار سے ٹھیکیدار کام کر رہا ہے، اس سے منصوبے کی بروقت تکمیل ناممکن نظر آتی ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق اڈیالہ روڈ سینکڑوں دیہات کو راولپنڈی شہر سے ملانے والی واحد مرکزی شاہراہ ہے، جس پر چکری، چونترہ اور چک بیلی خان سمیت گردونواح کے عوام کا روزانہ کا انحصار ہے۔ سست روی کے باعث نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی شدید نقصان کا شکار ہیں۔
شہریوں نے حکومتِ وقت اور اقتدار میں بیٹھے وزراء سے مطالبہ کیا ہے کہ اڈیالہ روڈ کے اس اہم منصوبے پر خصوصی توجہ دی جائے، تعمیراتی کام کی رفتار تیز کی جائے اور عوام کو مزید اذیت سے بچایا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقی کے دعوے تب ہی معنی رکھتے ہیں جب منصوبے بروقت اور معیاری انداز میں مکمل ہوں۔