چھابری بالا سے چین ، امریکہ تک ،محنت، دعا،مسائل کا سامنا، اور یقین کی زندہ مثال: ڈاکٹرمحمد آصف یعقوب رتہ۔

غربت، مشکلات اور ناموافق حالات کے باوجود عزم و ہمت کی وہ داستان جو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی
( ڈیرہ غازی خان سے چوھدری احمد کی خصوصی تحریر روزنامہ تعمیر وطن کی زینت سپیشل تعارف ۔)
ڈیرہ غازی خان کے پسماندہ علاقے چھابری بالا کی مٹی نے ایک ایسے ہونہار سپوت کو جنم دیا جس کی کامیابی کی داستان آج نہ صرف ہمارے ضلع بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال بن چکی ہے۔ محمد آصف یعقوب رتہ کا سفر محض کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ قربانی، جدوجہد، والدین کی دعاؤں اور مسلسل محنت کا عملی ثبوت ہے۔
چھابری بالا جیسے علاقے میں آنکھ کھولنا، جہاں وسائل کی کمی، غربت اور محدود مواقع زندگی کا حصہ ہوں، وہاں خواب دیکھنا بھی ہمت مانگتا ہے۔ محمد آصف یعقوب نے یہ ہمت کی، اور اس ہمت کے پیچھے سب سے مضبوط سہارا ان کے والد صاحب کی محنت، قربانیاں اور دعائیں تھیں۔ وہ والد جنہوں نے اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر بیٹے کے مستقبل کو ترجیح دی، اور تعلیم کو کامیابی کی کنجی سمجھتے ہوئے ہر ممکن قربانی دی۔
محمد آصف یعقوب کی ابتدائی تعلیم گیریژن پبلک اسکول، ڈیرہ غازی خان سے ہوئی۔ یہیں سے نظم و ضبط، محنت اور مقصد سے وابستگی کا سفر شروع ہوا۔ والد کی مسلسل رہنمائی، اخلاقی تربیت اور حوصلہ افزائی نے انہیں مشکل حالات میں بھی ہمت نہ ہارنے کا سبق دیا۔
میڈیکل ڈاکٹر بننے کا خواب آسان نہ تھا، خاص طور پر ایسے گھرانے کے لیے جہاں وسائل محدود ہوں۔ مگر جب نیت صاف اور دعا ساتھ ہو تو راستے خود بنتے ہیں۔ والد کے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ محمد آصف یعقوب نے چین کا رخ کیا اور وہاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ یہ فیصلہ خاندان کے لیے ایک بڑا امتحان تھا، مگر اسی فیصلے نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔


میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس پاکستان آئے، کیونکہ ان کا دل اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے دھڑکتا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے ہسپتال میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے اپنے علاقے کے مریضوں کا درد قریب سے دیکھا، سنا اور محسوس کیا۔ ان کے لیے طب محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت بن گئی۔ مریضوں کی خدمت، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، ان کے لیے دلی سکون کا باعث رہا۔
علم کی پیاس اور جدید طبی تحقیق نے انہیں مزید آگے بڑھنے پر آمادہ کیا، اور یوں ان کا سفر امریکہ تک جا پہنچا۔ آج وہ امریکہ میں کارڈیالوجی (امراضِ قلب) کے شعبے سے وابستہ ہیں، جہاں دل کے امراض کی جدید تشخیص، علاج اور مریضوں کی رہنمائی کا عملی تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔
محمد آصف یعقوب کا وژن صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہیں۔ ان کا واضح عزم ہے کہ وہ بیرونِ ملک حاصل کیے گئے علم اور تجربے کو واپس ڈیرہ غازی خان کے عوام کے لیے استعمال کریں۔ وہ دل کے امراض، بلڈ پریشر، کولیسٹرول، فالج اور گردوں کی بیماریوں سے متعلق آگاہی پھیلانا چاہتے ہیں، تاکہ بروقت معلومات کے ذریعے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
محمد آصف یعقوب کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ
اگر انسان سچے دل سے محنت کرے، والدین کی دعائیں ساتھ ہوں اور حوصلہ کمزور نہ پڑے تو پسماندہ علاقوں سے بھی عالمی سطح تک رسائی ممکن ہے۔
ایسی شخصیات ہمارے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہیں، اور والدین کے لیے یہ پیغام کہ تعلیم پر کی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ والد کا کہنا ہے کہ میں ہی جانتا ہوں کہ اسے اعلی تعلیم کے حصول کے لیے میں نے کیا کیاپاپڑ بیلے مشکلات برداشت کیں ۔ذاتی چیزیں فروخت کیں بہت کچھ قربان کیا اور کرتا آرہا ہوں جو صرف میں ہی جانتا ہوں ۔لگن ،شوق ،محنت اور خواب سجائے چلتے رہے کہ ایک اللہ پاک ضرور اس کا ثمر دیں گے ۔
اور میں سارے بیتے دکھ درد،غم بھول جاؤں گا اور اپنے وسیب علاقہ و پاکستان کی خدمت کرے گا میرا بیٹا۔
(تحریر:چوہدری احمدڈیرہ غازی خان )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *