این جی او کے زیر انتظام سرکاری سکول، آیا کو چار ماہ کی تنخواہ سے محروم رکھنے کا الزام
کوٹلی ستیاں (راشد ستی)
میں ایک غریب خاتون آیا کے ساتھ مبینہ ناانصافی کا معاملہ سامنے آگیا۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ایک سرکاری سکول دھیر گراں میں چار ماہ تک بطور آیا خدمات سرانجام دیتی رہی۔این جی او ٹھیکیدار نے تنخواہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی آیا رکھی ہی نہیں۔متاثرہ خاتون کے مطابق بعد ازاں ٹھیکیدار نے سکول اپنی تحویل میں لینے سے بھی انکار کر دیا۔اس معاملے میں ضلع ایجوکیشن اتھارٹی مری گواہ ہے کہ مذکورہ سکول این جی او کی کسٹڈی میں تھا۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ این جی او سکول چلانے میں بری طرح ناکام رہی۔تحصیل کوٹلی ستیاں کے متعدد سرکاری سکول بند ہو چکے ہیں۔تعلیم کی سہولت نہ ہونے پر کئی خاندان راولپنڈی منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔حیران کن طور پر این جی او کے بینرز آج تک سکولوں سے نہیں ہٹائے گئے۔علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو انصاف اور واجب الادا تنخواہ دلائی جائے۔


