عطائی کے غلط انجیکشن سے معصوم بچہ جاں بحق

عطائی کے غلط انجیکشن سے معصوم بچہ جاں بحق والد انصاف کے منتظ۔
استعمال شدہ سرنج لگانے سے بچے کو کینسر ہوگیا۔ چار ماہ موت و زندگی کی جنگ کے بعد دم توڑ گیا۔ ذمہ دار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ۔
ڈیرہ غازی خان (چوہدری احمد سے) ڈیرہ غازی خان میں عطائی کلینک کے غلط اور استعمال شدہ انجیکشن سے ایک معصوم بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ بچے کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’اتائی محمد عارف ولد موسیٰ قوم کھوسہ‘‘ نے اڈا شالی موڑ پر واقع اپنے کلینک پر استعمال شدہ سرنج کے ذریعے انجیکشن لگایا، جس کے فوراً بعد بچے کے جسم میں رسولیاں بننا شروع ہو گئیں۔

والد محمد شریف چاہ باجری والہ تھانہ کوٹ مبارک کے مطابق وہ اپنے بچے کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ غازی خان لے گئے، جہاں سے اسے نشتر اسپتال ملتان اور بعد ازاں چلڈرن ہسپتال ملتان ریفر کیا گیا۔ تین مختلف ڈاکٹرز نے تشخیص کی کہ غلط اور استعمال شدہ انجیکشن لگنے کے باعث بچے کو کینسر لاحق ہوا۔

معصوم بچہ چار ماہ تک زندگی کی جنگ لڑتا رہا اور بالآخر جاں بحق ہو گیا۔ والد نے تمام میڈیکل رپورٹس اور دستاویزات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کھلی قتل کی واردات ہے اور عطائی ڈاکٹر براہِ راست بچے کی موت کا ذمہ دار ہے۔

محمد شریف نے ایس ایچ او تھانہ کوٹ مبارک، ڈی ایس پی صدر، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان، آر پی او غازی خان، آئی جی پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کے خلاف قتل کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اور معصوم جان عطائیوں کی بھینٹ نہ چڑھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *