بسنت صرف مخصوص دنوں میں اور سخت حکومتی شرائط کے تحت منانے کی اجازت دی گئی ہے، ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، فحاشی و غیراخلاقی سرگرمیوں پر قانون فوری حرکت میں آئے گا؛ آئی جی پنجاب کی گفتگو
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2026ء) صوبہ پنجاب میں بسنت کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی پر پولیس کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق دھاتی اور کیمیکل ڈور کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، بسنت صرف مخصوص دنوں میں اور سخت حکومتی شرائط کے تحت منانے کی اجازت دی گئی ہے، بسنت فیسٹیول کو محفوظ بنانے کیلئے صرف رجسٹرڈ پتنگ فروشوں کو منظور شدہ پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کی اجازت ہے، خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہوگی، بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، فحاشی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف قانون فوری حرکت میں آئے گا۔ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 333 مقدمات درج اور 340 ملزمان گرفتار کیے گئے، ملزمان کے قبضے سے 19 ہزار 324 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 612 ڈور چرخیاں برآمد ہوئیں، لاہور میں غیر قانونی پتنگوں اور ڈوروں کے کاروبار میں ملوث 167 ملزمان گرفتار کیے گئے، 2 ہزار سے زائد پتنگیں اور 451 ڈور چرخیاں ضبط کی گئیں۔ادھر صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے بسنت فیسٹیول کے انعقاد کے لیے واضح قواعد و ضوابط طے کر دیئے ہیں ، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جس کےلیے ٹریفک پولیس کی جانب سے موٹرسائیکل سواروں کو 10 لاکھ سیفٹی راڈز مفت فراہم کی جا چکی ہیں، احتیاطی تدابیر اور حکومتی ایس او پیز سے متعلق مسلسل آگاہی مہم بھی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہر پتنگ، گڈے اور ڈور کے پنے پر خصوصی کیو آر کوڈ چسپاں کیا گیا ہے جس کے ذریعے انتظامیہ کے پاس پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والوں اور خریدنے والوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہوگا جب کہ بسنت کے 3 دنوں کے دوران الیکٹرک بسیں، رکشے اور ٹیکسیاں عوام کے لیے مفت سفری سہولت فراہم کریں گی، شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بسنت کے تہوار کو ذمہ داری کے ساتھ منائیں۔