کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 فروری2026ء) تحریک انصاف کے 8 فروری کو ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کراچی میں 180 افراد کو گرفتار کرکے 30 روز کیلئے نظر بند کر دیا گیا، جس کے بعد پی ٹی آئی نے کارکنوں کی ایم پی او تھری کے گرفتاریاں سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے 8 فروری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو روکنے کے لیے جاری کریک ڈاؤن پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی نے جمہوری اقدار کا جنازہ نکال دیا، سندھ پولیس کے ذریعے کراچی سمیت صوبے بھر میں پی ٹی آئی رہنمائوں اور کارکنان کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے اور دروازے توڑے جا رہے ہیں اور اب تک 180 سے زائد پی ٹی آئی رہنما، کارکنان اور منتخب نمائندے گرفتار کیے جا چکے ہیں، کئی افراد کو نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ 8 فروری کی ہڑتال مکمل طور پر رضاکارانہ اور پرامن ہے اور کسی زبردستی، توڑ پھوڑ یا سڑک بند کرنے کی کال نہیں دی گئی، ہم پرامن سیاسی لوگ ہیں، آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، تشدد ہماری سیاست نہیں، گرفتاریوں اور پولیس تشدد سے پی ٹی آئی کی حقیقی آزادی کی تحریک کو نہیں روکا جا سکتا تاہم سندھ حکومت خوف کا شکار ہوچکی ہے اسی لیے رضاکارانہ ہڑتال سے پہلے ہی کریک ڈان شروع کردیا گیا، سیاسی کارکنوں کے گھروں میں گھس کر دروازے توڑنا کون سی جمہوریت ہے؟ پیپلزپارٹی پنجاب پولیس سے بھی آگے نکلنے کی دوڑ لگا رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایم پی او تھری کے تحت گرفتاریاں سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی گئی ہیں، اس مقصد کے لیے درخواست پاکستان تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکریٹری منصور علی و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ ،سیکریٹری داخلہ سندھ ،آئی جی سندھ پولیس و دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل علی طاہر کا عدالت میں دائر پٹیشن میں کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پر امن احتجاج کا اعلان کیا تھا، یکم فروری کو سندھ حکومت نے تھری ایم پی او تحت نوٹیفکیشن جاری کرکے پی ٹی آئی کے 180 کارکنوں کے نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں، ایم پی او کے تحت جاری نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیئے جائیں۔
پی ٹی آئی کا 8 فروری ممکنہ احتجاج؛ کراچی میں 180 افراد گرفتار، 30 روز کیلئے نظربند