جھنگ (قمر زمان نقوی)حکومت کی طرف سے ہیلمٹ کی پابندی نے اٹو سٹور والوں کی چاندی کر دی ہزار روپے والا ہیلمٹ 3500 میں بک رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی کے ممبران نے ماہانہ اجلاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ممبران ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کی طرف سے ہیلمٹ کی پابندی نے ایک طرف یہاں لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا شروع کیا ہے وہاں ہیلمٹ فروخت کرنے والوں اٹو سٹور والوں کی چاندی ہو گئی ہے جو ہیلمٹ اج سے ایک مہینہ پہلے ہزار روپے کا تھا وہ 3500 میں 3 ہزار میں بک رہا ہے لگ یہ رہا ہے کہ کسی حکومتی اہلکار نے اس بارے میں غور نہیں کیا اور نہ ہی اٹو سٹور والوں کو کوئی چیک کر رہا ہے اپنے من پسند ریٹ لگا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے ہیلمٹ پہننا اچھی بات ہے اس سے موٹر سائیکل سوار کی اپنی سیفٹی ہوتی ہے لیکن اس طرح ایک دم ہیلمٹ کی قیمت کو کئی گنا زیادہ بڑھا کر فروخت کرنا بھی ایک جرم ہے اس بارے میں ضلع انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ممبران ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی نے مزید کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کو ہیلمٹ فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف بھی پیرا فورس کو الرٹ کرنا چاہیے تاکہ عوام سیفٹی کے ساتھ ساتھ اپنے محنت سے کمایا ہوا پیسہ بھی بچا سکے ممبران ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی نے مزید کہا کہ بازاروں میں پیرافورس کی طرف سے تجاوزات کے خلاف کیے جانے والا اپریشن سستی کا شکار کیوں ہےبہت سارے دکانداروں نے تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی لوہے کی باڈیاں اتار کر اپنا لاکھوں کا نقصان کر لیا ہے لیکن بہت سارے دکانداروں نے ریل بازار مین بازار انارکلی بازار کوٹ روڈ کھیتیاںوالا بازار جھنگ بازار لوہارہ بازار میں تا حال سرکاری جگہ خالی نہیں کی اور پکی تجاوزات کی ہوئی ہیں پیرا فورس کو فوری طور پر اپریشن دوبارہ شروع کر کے ان تجاوزات کو بھی ختم کروانا چاہیے تاکہ تمام دکانداروں کو احساس ہو کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا اس طرح دکانداروں میں بہت سارے ابہام پیدا ہو رہے ہیں اور مختلف قسم کی افوائیں جنم لے رہی ہیں جو کہ ضلع انتظامیہ کے افسران کے لیے ٹھیک نہیں ہے ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی پہلے بھی ضلع انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور ائندہ بھی کرتی رہے گی ۔لیکن صارفین کے حقوق کے بارے میں کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی ضلع انتظامیہ اشیاء خرد و نوش کی جو لسٹ جاری کرتی ہے اس پر عمل درامد کرانے میں مکمل ناکام ہے اور ریاست کے ریٹ کہیں بھی نظر نہیں ارہی گوشت چینی دالیں دہی دودھ مٹی کا تیل ایل پی جی گیس لکڑیاں ہیں کوئلہ سیمنٹ اینٹیں ریت غرض یہ کہ روزمرہ کی استعمال کی تمام چیزیں جو کہ حکومت نے ریٹ مقرر کرنے ہیں من پسند ریٹوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے دوسری طرف عوام کو بھاری جرمانوں کے بوجھ تلے دبا کر ایک عجیب سی نفرت پیدا کی جا رہی ہے پولیس پیرا فورس اور دیگر ادارے مختلف مد میں عوام کو بھاری جرمانے کر کے ملک میں انارکی کا ماحول پیدا کر رہے ہیں جس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ پنجاب حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پکڑ دھکڑ چالان جرمانے کے معاملے میں ہاتھ حولہ رکھے تاکہ ائندہ انے والے الیکشن میں نون لیگ کو مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔۔۔
حکومت کی طرف سے ہیلمٹ کی پابندی نے اٹو سٹور والوں کی چاندی کر دی