جھنگ ۔ہیلمٹ لازمی مگر عوام کی حفاظت نہیں – ناقص معیار اور حکومتی غفلت کا شکار شہری

جھنگ (قمر زمان نقوی)پاکستان میں موٹرسائیکل ڈرائیونگ کے دوران ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ بازار میں دستیاب زیادہ تر ہیلمٹ صرف چالان سے بچنے کے لیے ہیں، نہ کہ سر یا دماغ کی حفاظت کے لیے۔ دنیا بھر میں صرف DOT سرٹیفائیڈ ہیلمٹ محفوظ تصور کیے جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً نوے فیصد ہیلمٹ اس معیار پر پورا نہیں اترتے اور پلاسٹک نما کھلونے کی طرح فروخت ہو رہے ہیں۔
مارکیٹ میں دستیاب یہ ہیلمٹ اکثر تھرڈ کلاس ورکشاپس میں بغیر کسی تحقیق یا معیار کے بنائے جاتے ہیں، جس سے حادثے کی صورت میں دماغ یا سر محفوظ نہیں رہتا۔ پڑوسی ملک ہندوستان میں اعلیٰ معیار کے DOT سرٹیفائیڈ ہیلمٹ تیار اور پوری دنیا کو ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ عوامی حفاظت کے پیشِ نظر بلک آرڈر کے ذریعے اعلیٰ معیار کے سرٹیفائیڈ ہیلمٹ خریدتی، جس سے قیمت بھی کم ہوتی اور ہیلمٹ پہننے کا مقصد بھی پورا ہوتا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ عوام نہ صرف چالان کے زخم سہہ رہے ہیں بلکہ ناقص کھلونا نما ہیلمٹ کی وجہ سے اپنی رقم بھی ضائع کر رہے ہیں۔
اہم تجویز: انتظامیہ کو فوری طور پر مارکیٹ کا سروے کرنا چاہیے، ناقص معیار کے ہیلمٹ پر پابندی لگائی جائے اور عوام کے لیے معیاری، اعلیٰ کوالٹی کے DOT سرٹیفائیڈ ہیلمٹ فراہم کیے جائیں تاکہ شہری اپنی جان و مال کے نقصان سے بچ سکیں اور قانون حقیقی تحفظ فراہم کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *