ریگولیٹری نظام کو کمزور کر کے منافع خور مافیا کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ؛
پروفیسر شاہد ملک
لاہور (محمد منصور ممتاز سے )
ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی جانب سے ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کے نظام کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ نوے فیصد سے زائد ادویات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ہٹا دیا گیا، جس کے نتیجے میں ادویات کی قیمتیں آئے دن بڑھ رہی ہیں۔
اس سے پہلے ادویات کی قیمتوں میں کسی بھی قسم کے اضافے کے لیے ڈریپ سے منظوری لینا ضروری ہوتا تھا، جس کی وجہ سے قیمتوں پر مؤثر کنٹرول قائم رہتا تھا۔ وفاقی حکومت اور ڈریپ مل کر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیتے تھے، تاکہ عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔
مگر موجودہ دورِ حکومت میں ادویات کو “ایسنشل” اور “نان ایسنشل” میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایسنشل ادویات، جو کل ادویات کا صرف دس فیصد بنتی ہیں، ان کی قیمتیں اب بھی ڈریپ مقرر کرتی ہے۔ جبکہ نان ایسنشل ادویات، جو نوے فیصد سے زائد ہیں، ان کی قیمتوں پر ہر قسم کا کنٹرول ختم کر کے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو من مانی قیمتیں مقرر کرنے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔
اس فیصلے کی وجہ سے عوام کی جیبوں پر بے تحاشا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ دن رات ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور کروڑوں روپے منافع کمایا جا رہا ہے۔ مختلف کمپنیوں کے مالکان کو لاکھوں کروڑوں روپے تنخواہیں اور منافع مل رہا ہے، اور یہ سارا بوجھ براہِ راست عوام الناس کی جیبوں سے نکالا جا رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کا پرانا نظام بحال کیا جائے، تاکہ کوئی بھی میڈیکل کمپنی اپنی مرضی سے ادویات کی قیمتیں مقرر نہ کر سکے اور نہ ہی من مانا اضافہ کر سکے۔