ٹھٹہ بیروچیف ایم اعجازچانڈیو مھرانوی
ٹھٹہ تعلقہ کے مختلف شاخوں میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل پانی کی بندش کے خلاف آبادگاروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مکلی بائی پاس پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث ٹھٹہ–کراچی مین قومی شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہو گئی۔ شاہراہ کی بندش سے ٹریفک معطل رہی اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج کی قیادت آبادگار رہنما رحیم بخش بروہی، ایوانِ زراعت ٹھٹہ کے شاہنواز بروہی، پی ٹی آئی رہنما امجد شاہ، طاہر درس، ستار جوکھیو اور غلام قادر پلیجو سمیت دیگر نے کی۔ مظاہرین نے پانی کی قلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور آبپاشی محکمے پر سخت الزامات عائد کیے۔
آبادگاروں کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر پانی کی قلت پیدا کر کے ٹھٹہ کے واهن اور شاخیں بند رکھی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں تیار فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ متاثرہ آبادگاروں کے مطابق کپاس، سبزیاں اور دیگر فصلیں پانی نہ ملنے کے باعث شدید نقصان کا شکار ہیں اور کسانوں کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے۔
احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ آبپاشی محکمے کی بدانتظامی کے باعث ایک ہی وقت میں تمام واهن اور شاخوں میں پانی بند کیا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام واهن شاخوں میں پانی کی فراہمی بحال کی جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ پانی کی بحالی تک دھرنا جاری رکھا جائے گا، جبکہ علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے بھی اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ زرعی نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔