محکمہ خوراک کے آفسران کی بدعنوانیاں، غریب عوام سندھ حکومت کی جانب سے گندم پرفراہم کردہ سبسڈی کے ثمرات سے محروم

عمرکوٹ سندھ، بیوروچیف زیب بنگلانی،
محکمہ خوراک کے آفسران کی بدعنوانیاں، غریب عوام سندھ حکومت کی جانب سے گندم پرفراہم کردہ سبسڈی کے ثمرات سے محروم، بوگس چالانوں کے ذریعے گندم کے ہزاروں بیگ سرکاری گوداموں سے نکال کر دیگراضلاع میں فروخت کردیئے،مقامی سطح پرگندم اورآٹا کابحران برقرار نرخوں میں اضافہ،شہری وسماجی حلقوں کی جانب سے عوامی مقامات پرسستاآٹااسٹال لگانے اور آٹاچکی مالکان کوپوراکوٹہ جاری کرنیکا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ضلع بھر میں گندم اورآٹا کابحران برقرارہے،کنری،سامارو سمیت مختلف شہروں میں آٹاچکی ایسوسی ایشن والوں کی جانب سے سستاآٹا کے چند اسٹال لگائے گئے ہیں،مگر محکمہ خوراک کی جانب سے آٹاچکی والوں کے گندم کے ماہانہ کوٹہ میں کمی کی وجہ سے لگائے جانیوالے سستاآٹا کے چند اسٹال بحران پر قابوپانے کیلئے ناکافی ہیں، اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں اضافہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی غفلت اورمبینہ ملی بھگت کے ساتھ محکمہ خوراک کے ایک ڈیژنل افسر نے بوگس چالانوں کے ذریعے سرکاری گوداموں سے سبسڈی والی سستی گندم کے ہزاروں بیگ نکال کردیگر اضلاع میں فروخت کردیئے ہیں،جسکی وجہ سے مقامی سطح پر گندم اورآٹاکے نرخوں میں اضافہ اوربحران پیداہواہے،سندھ حکومت نے گندم پر اس لئے سبسڈی فراہم کی تھی کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کے دوران غریب عوام کو سستاآٹا دستیاب رہے،مگر محکمہ خوراک کے بدعنوان افسران کی وجہ غریب عوام سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گندم پر سبسڈی کے ثمرات سے محروم رہے ہیں، اورمہنگے داموں پرآٹاخریدکردووقت کی روٹی کاحصول ممکن بنانے پرمجبورہوگئے ہیں،اوراب عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے مقامی انتظامیہ اورمحکمہ خوراک کے افسران کی جانب سے سستاآٹاکے چند ناکافی اسٹال لگوائے جارہے ہیں اورسرکاری گوداموں میں گندم کی دستیاب ہونے کے باوجودبدنیتی کی بنیاد پرآٹاچکیوں کے کوٹہ میں کمی کی گئی ہے تاکہ بوگس چالانوں کے ذریعے سرکاری گوداموں سے سبسڈی والی سستی گندم نکال کر اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں پر فروخت کرکے ناجائزمنافع حاصل کیاجاسکے،شہریوں وسماجی حلقوں نے بالاحکام سے عوامی مقامات پر سستاآٹااسٹال لگانے اورآٹاچکی مالکان کوانکے حصے کاپوراکوٹہ فراہم کرنے کامطالبہ کیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *