جیکب آباد : (اے جی بلوچ)شہر کی سیاسی، سماجی، دینی اور تجارتی تنظیموں پر مشتمل شہری اتحاد جیکب آباد کی مچ کچہری اور جنرل کونسل کا اجلاس صدر محمد یاسر ابڑو کی صدارت میں سینٹ جان اسکول جیکب آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں شہر کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی تقارير کي گئي، جبکہ پروگرام کے دوران شاعری، مولود شریف، نظم اور ادبی نشستیں بھی پیش کی گئیں، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہری اتحاد کے صدر محمد یاسر ابڑو، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری، چیمبر آف کامرس کے میر احمد علی بروہی، سندھ دوست کمیٹی کے استاد انتظار حسین چھلگری، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے ندیم قریشی، مہران سوشل فورم کے ایڈووکیٹ عبدالحي سومرو، جمعیت علمائے اسلام کے بقا محمد چھڄڻ، جماعت اسلامی کے محمد ابوبکر سومرو، ایس ٹی پی کے عبدالمجید سرکی، جسقم کے وارث جکراڻي، جعفریہ الائنس کے زوار وزیر علی مشہدی، بی این پی کے گلاب جان مینگل سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ جیکب آباد شہر مسائل کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔مقررین نے کہا کہ شہر میں بدامنی، بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ، تباہ حال سڑکیں، ناکام ڈرینیج سسٹم، کالے یرقان کی وبا اور سرکاری محکموں میں بڑھتی ہوئی کرپشن عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ حکومتی بے حسی کے باعث شہر کی صورتحال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
اجلاس میں اقلیتی رہنما سری چند بھاوناڻي، شلو کمار، نوجوان اتحاد کے خالد کٹبار، ہیومن رائٹس کے راہیل منگی، آپکا کے گل حسن سومرو، ملاح فورم کے راجا علی میراڻي سمیت مولانا سراج احمد ڈول، محمد عمر سولنگی، نور محمد منجھو، عبدالفتاح ڈومکی، شاہد حسین جوادی، غلام حسین جکراڻي، بابل خان کٹو، علی مردان سیال، تاج امروٹی اور مختلف سیاسی، سماجی، دینی، تجارتی اور قوم پرست تنظیموں کے نمائندوں اور سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی۔آخر میں رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر شہر کے بنیادی مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو شہری اتحاد سخت احتجاج پر مجبور ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔۔
شہری اتحاد جیکب آباد کی جنرل کونسل اور مچ کچہری، شہر کے سنگین مسائل پر تشویش مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج پر مجبور ہوں گے: اتحاد کے رہنما۔۔۔