۔۔۔۔عبدالغفور جٹ فیروزپوریا
سردی کا موسم اور غریب دونوں آپس میں خاصی اچھی بھلی دشمنی رکھتے ہیں۔اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو سردی کا موسم غریب اور عام آدمی پر بھاری ہے۔کھانے پینے سے لے کر پہننے پہنانے تک ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ موسم گرما جیسے ہی رخصت ہوتا ہے موسم سرما عام آدمی بالخصوص غریبوں پر مشکلات ہی لاتا ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا ہی ہوگا امیر آدمی فیشن ایبل گرم کپڑے کوٹ، جرسی ،ٹروزر،جیکٹزاور بہت سے معیاری ملبوسات پہنتے ہیں۔اور آئیے عام آدمی کی بات کرتے ہیں عام آدمی مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے وہ امیروں کی طرح مہنگے داموں ملبوسات تو نہیں لے سکتا اس لیے وہ کوشش کرتا ہے سستے داموں اس کو مل جائے تو وہ لنڈا بازار کا رخ کرتا ہے اور اپنے اپ کو سردی سے بچانے کے لئے سامان خریدتا ہے۔ اگر ہم بات کریں لنڈے بازار کی تو وہ بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ استعمال شدہ کپڑوں’ جوتوں اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو “لنڈا بازار” کیوں کہا جاتا ہے۔ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لینڈا تھا.کہتے ہیں کہ وہ بہت رحم دل تھی. اسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے مدد کرنےکا سوچا۔ اگرچہ اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے لیکن دل بہت بڑا تھا اس لئے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی۔اس امید پر کہ وہ غریبوں کی مدد کر سکے
اس کے دوستوں نے اس اقدام کی قدر کی اور اسے کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ دیئے۔ جو اس نے غریبوں کے لیے ایک سٹال پہ سجائے اور غریب لوگوں کے لئے یہ فری تھا ۔ اس نے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لینڈا کو دینے شروع کردئیے۔اور اس کا یہ سٹال کافی مشہور ہوگیا ۔ جو بعد میں ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کرگیا۔آخر اس جگہ کو لینڈا مارکیٹ کہا جانے لگا ۔ جودرحقیقت غریبوں کی مارکیٹ تھی۔
انگریزوں جب یہاں آے تو جو ان کے استعمال شدہ کپڑوں جوتے پرانے تھے یہاں آسانی سے بکنے لگ گئی۔آہستہ اس کے بازار بن گئے جو آج کے دور کا بہت اچھا بھلا کاروبار کی شکل میں چل رہا ہے پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اتوار بازار کی صورت میں لگتے ہیں اور عام آدمی سے لے کر مخیر حضرات تک سارے کے سارے اس بازار کی طرف رخ کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ اللہ کی رضا کے لیے یہاں سے ملبوسات خرید کر غریبوں میں مفت تقسیم بھی کرتے ہیں ۔اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا کے بڑے بڑے ممالک اس کاروبار سے منسلک نظر آتے ہیں ایک نئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان پرانے کپڑوں کی ایک بہت بڑی تعداد دراصل سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کے کاروبار کا حصہ بن جاتی ہے اور خیرات میں دیے ہوئے کپڑے دو ارب 80 کروڑ پاؤنڈ کی ایک ایسی تجارت میں استعمال کیے جاتے ہیں جس کا دائرہ کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔بی بی سی کی روبوٹ کے مطابق برطانیہ میں صارفین ہر سال دس لاکھ ٹن سے زیادہ وزن کے کپڑے پھینک دیتے ہیں اور تاجر برادری اس کو کاروبار میں لا کر مستفید ہورہے ہیں۔
لینڈا بازار عام آدمی کا بازار